بھٹکل 13؍اگست (ایس ا ونیوز)بھٹکل کے عوام کے لئے قدرتی مشروم یا کھمبی جسے بھٹکل کی عام زبان میں اَلبے کہا جاتا ہے ،برسات کے کچھ خاص دنوں میں جنگلوں سے ملنے والی ایک نہایت مرغوب غذا ہے۔اس کاذائقہ اس قدر مشہور ہے کہ شہر کے لوگ برسات کے ان خاص دنوں کا انتظار پورے سال بھر کرتے رہتے ہیں۔ لیکن گزشتہ کچھ برسوں سے اس کی مانگ کے ساتھ قیمتیں بھی آسمان کو چھونے لگی ہیں۔اس پر مصیبت یہ ہوگئی ہے کہ محکمہ جنگلات کے افسران نے جنگلی علاقوں سے کھمبی لاکر بازار میں بیچنے کو غیر قانونی بتاکر اس پر نگرانی لگادی ہے اس لئے اس کی رسد میں بھی کمی آگئی ہے۔
پچھلے دنوں یہاں رابطہ تعلیمی ایوارڈ کے سلسلے میں نائب وزیر اعلیٰ ڈاکٹر جی پرمیشورا تشریف لائے تھے تو ان کے لئے ظہرانہ کا انتظام شہر کے معروف رئیس و تاجر جناب یونس قاضیا کے گھر پر تھا۔ وہاں پر بھٹکلی مشروم کی خصوصی ڈش انہیں پیش کی گئی اور وہ اس کے ذائقے سے اتنے متاثر ہوگئے کہ جلسے میں تقریر کے دوران اس کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہاں کے اَلبے کھانے کے لئے میں پھر ایک بار بھٹکل آؤں گا۔
بھٹکل میں قدرتی مشروم کا موسم محض چند دنوں کے لئے ہوتا ہے۔ اور آج کل اس کی قیمت ایک سو مشروم کے لئے 350روپوں سے650روپے تک ہوا کرتی ہے۔ مضافات اور جنگلاتی علاقوں سے قریب بسنے والے لوگ علی الصبح سورج اگنے سے پہلے ہی جنگلوں میں جاکر مشروم تلاش کرکے لاتے ہیں اور پھر مقامی بازار میں ان سے خرید کر دوسرے لوگ جن میں اکثریت ترکاری اور سبزی بیچنے والی خواتین کی ہوتی ہے، اسے زیادہ داموں پر فروخت کیا کرتے ہیں۔ مگر اسسٹنٹ کنزرویٹر آف فاریسٹ بالچندرا کا کہنا ہے کہ جنگلاتی زمین پر جو کچھ بھی قدرتی طور پر اگتا ہے یا پایا جاتا ہے تو وہ جنگلات کی ملکیت ہوتی ہے۔ جنگلوں سے درختوں کو کاٹ کر لانا جیسے غیر قانونی ہے بالکل اسی طرح وہاں اگنے والے مشروم کو اکھاڑکر لانا اور بیچنا بھی غیر قانونی ہے۔ کیونکہ یہ جنگلوں میں پائے جانے والے بعض جانوروں کی قدرتی غذا ہے۔
عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ بھٹکل کی نوائط برادری کے افراد اسے بھاری قیمت پر اور بڑی مقدار میں خریدنے میں ذرا بھی نہیں جھجکتے۔ چونکہ یہاں کے زیادہ ترلوگ خلیجی ممالک میں مقیم ہوتے ہیں، اس لئے مشروم کا سیزن شروع ہوتے ہی بڑی مقدا ر میں خرید کر اسے پردیس میں رہنے والے اپنے رشتے داروں کو بھیجنے کا رواج عام ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کی مانگ بڑھتی جارہی ہے ۔ اورجب مانگ زیادہ ہوگی تو پھر قدرتی طور پر قیمتیں بھی بڑھیں گی ۔ پھر اس کا ذائقہ زبان کو لگنے کے بعد قیمت کی پروا کرنا مشکل ہوجاتا ہے اور لوگ اسے خرید کر ہی دم لیتے ہیں۔